Darzi ka Janaza(Sabaq Amoz Tahreray)
8:21 AMلکھنو بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر
جنازے کے لۓ دکان بند کرتے تھے...
لوگوں نے کہا کہ اس سے آپ کے کاروبار کا نقصان ہوگا،
کہنے لگا کہ علماء سنا
ہے کہ جو کسی مسلمان کے
جنازے پر جاتا ھے کل اس کے جنازے پر لوگوں کا ہجوم ہوگا.
میں غریب ہوں نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے
جنازے پر کون آۓ گا...
اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور
دوسرا یہ کہ شاید اس سے ہی اللہ پاک راضی ہو جائیں
اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902ء میں مولانا عبدالحئ
لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا...
ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر آگئی..
جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا. پھر بھی بہت سے
لوگ انکا جنازہ پڑھے سے محروم رہ گئے
جب جنازہ گاہ میں
ان کا جنازہ ختم ہوا تو اسی وقت جنازہ
میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا. اور اعلان ہوا کہ ایک اور
عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں...
یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا... مولانا کے جنازے کے سب
لوگ ، بڑے بڑے اللہ والے ، علماء کرام سب نے اس درزی کا
جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی
اس میں شامل ہوگئے ۔ اس غریب کا جنازہ تو مولانا کے
جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا
گاه
اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کرکے اس کی لاج رکھی.
سچ کہا ھے کہ اخلاص بہت بڑی نعمت ھے...!
اللہ ھم سب کی زندگی میں آسانیاں عطا فرماۓ آمین -
0 Comments