­
PAIGHAM 786: Hazrat Data Ganj Bakhsh Ali Hajveri RA-Bolny K Aadab

Hazrat Data Ganj Bakhsh Ali Hajveri RA-Bolny K Aadab

8:57 PM

حضرت سیدنا علی بن عثمان بجويري المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ تعالی علیہ ” کشف المحجوب“ میں فرماتے ہیں. کلام(یعنی بولنا) دو۲ طرح کا ہوتا ہے۔ ایک کلام حق اور دوسرا کلام باطل، اسى طرح خاموشی بھی دو۲ طرح کی ہوتی ہے: (۱)بامقصد(مثلاً مراقبہ،مشاهده،ذکروفکر،فکر آخرت یا شرعی احکام پرغوروخوض وغیرہ کیلئے) خاموشی(یعنی چپ رہنا) (۲)غفلت بھری (معاذاللہ گندے تصورات یا دنیا کے بے جاخیالات سے بھر پور)خاموشی بر شخص کوسکوت (یعنی خاموشی)کی حالت میں خوب اچھی طرح غور کر لیناچاہئے کہ اگر اس کا بولنا حق ہے توبولنا اس کی خاموشی سے بہتر ہے اور اگر اس کا بولنا باطل ہے تو اس کی خاموشی اس کے بولنے سے بہتر ہے ۔ حضور داتا گنج بخش رحمۃ اللہ تعالی علیہ گفتگو کے حق یا باطل ہونے کے متعلق سمجھانے کیلئے ایک حکایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں. ایک مرتبہ حضرت سیّدنا ابو بکر شبلی بغدادی رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے بغدادشریف کے ایک محلے سے گزر تے ہوئے تعالی علیہ نے بغدادشریف کے ایک محلے سے گزر تے ہوئے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا : السكوت خير من الكلام یعنی خاموشی بولنے سے بہتر ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اسے فرمایا : ’’تیر ے بولنے سے تیرا خاموش رہنا اچھا ہے اور میرا بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔‘ کشف المحجوب،باب آدابهم في الكلام والسكوت، #طالب_دعا: حافظ نعمان نقشبندی شاذلی

You Might Also Like

0 Comments

Advertisement

Blog Archive

Followers

Contact Form

Name

Email *

Message *